ہفتہ 14 فروری 2026 - 04:06
22 بہمن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ عالمی غلبے کے مقابل استقامت کی علامت ہے

حوزہ / عراقی میڈیا کارکن، علیا الیاسر نے انقلاب اسلامی کے بین الاقوامی پیغام پر زور دیتے ہوئے 22 بہمن کو نظامِ غلبہ کے مقابل پائیداری اور ثابت قدمی کی علامت اور اسے امتِ اسلامی اور دنیا کے آزادگان کے لیے ایک واضح درس قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عرب دنیا کی میڈیا کارکن علیا الیاسر نے انقلاب اسلامی ایران کی فتح کی سالگرہ کے موقع پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ 22 بہمن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ تاریخ سے بڑھ کر ایک واقعہ ہے۔

انہوں نے کہا: 22 بہمن کوئی معمولی دن نہیں اور نہ ہی ایسا واقعہ ہے جو صرف ایک قوم تک محدود ہو کر ختم ہو جائے بلکہ یہ ایک افشاگر لمحہ ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ فیصلے کیسے بنتے ہیں اور اس طاقتور دنیا میں ہر اختلافی آواز کو کس طرح دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جو اپنی شرطیں مسلط کرتی ہے اور جو بھی اطاعت سے نکلے اسے محاصرے میں لے لیا جاتا ہے نہ کسی غلطی کی وجہ سے بلکہ صرف اس لیے کہ اس نے کہا: "میں تابع نہیں ہونا چاہتا"۔

اس میڈیا کارکن نے انقلاب اسلامی کے بیانیے کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے تصادم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکہ اور اسرائیل صرف ایران سے نہیں الجھے ہوئے بلکہ ایک فکر سے برسرِ پیکار ہیں؛ ایسی فکر جس نے انہیں پریشان کر رکھا ہے: یہ کہ ایک مسلمان ملک اپنی شناخت کو محفوظ رکھے اور اجازت کے بغیر "ہاں" یا "نہیں" کہہ سکے۔

محترمہ علیا الیاسر نے کہا: یہیں سے 22 بہمن ایک تاریخ سے آگے بڑھ جاتا ہے؛ یہ پائیداری کی علامت بن جاتا ہے: دباؤ میں روزمرہ زندگی کی پابندیوں میں معیشت کی پائیداری اور دھمکیوں کے سائے میں فیصلہ سازی کی پائیداری۔ مسلمان ملتِ ایران جو درس پیش کرتی ہے وہ محض نظریاتی اور تجریدی باتیں نہیں بلکہ امتِ اسلامی اور دنیا کے آزادگان کے لیے ایک روشن تجربہ ہے؛ ایسا تجربہ جو بتاتا ہے کہ اسلامی شناخت اندھی تقلید سے محفوظ نہیں رہتی خاموشی سے محفوظ نہیں رہتی اور پسپائی سے پہچانی نہیں جاتی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha